السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من أعتق شركا له في عبد وهو معسر. باب: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ تنگ دست ہو۔
حدیث نمبر: 21356
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَنَزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: " مَالِكٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ فِي نَافِعٍ، أَوْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: " مَالِكٌ "، قُلْتُ: فَأَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ؟ قَالَ: " مَالِكٌ "..حافظ ثناء اللہ
عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: ”نافع (کی روایات) میں آپ کو امام مالک زیادہ پسند ہیں یا عبیداللہ بن عمر؟“ انہوں نے فرمایا: ”مالک۔“ میں نے کہا: ”اور ایوب سختیانی؟“ فرمایا: ”مالک۔“