السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حثمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ " قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ " يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشا کی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: ”تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ پھر فرمایا: ”سو برس کے ختم ہونے تک جتنے لوگ زمین پر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ آپ ﷺ کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔