السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من أعتق من مملوكه شقصا. باب: جس نے اپنے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 21319
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ ⦗٤٦٣⦘ لَهُمْ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: طَهْمَانُ، أَوْ ذَكْوَانُ، قَالَ: فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نِصْفَهُ، فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُعْتَقُ فِي عِتْقِكَ، وَتُرَقُّ فِي رِقِّكَ " قَالَ: فَكَانَ يَخْدُمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ. تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ، هُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَعَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ لَيْسَ لَهُ صُحْبَةٌ..حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن امیہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک غلام تھا، اس کا نام طہمان یا ذکوان تھا۔ ان کے دادا نے اس کا نصف حصہ آزاد کر دیا۔ غلام نے آکر نبی ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تو آزاد کیا گیا ہے اتنا تو آزاد ہے، باقی حصہ غلام ہے۔“ وہ اپنے آقا کی خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حوشب منفرد ہیں، اور اسماعیل سے مراد اسماعیل بن امیہ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں، اور عمرو بن سعید کو صحابیت حاصل نہیں۔