السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: فضل إعتاق النسمة وفك الرقبة باب: جان کو آزاد کرنے اور گردن کو (غلامی سے) چھڑانے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " لَئِنْ أَقْصَرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهُمَا سَوَاءٌ؟ قَالَ: " لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَنْفَرِدَ بِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ "، قَالَ: فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " مُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ "، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ..سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ تو نے خطبہ چھوٹا دیا ہے لیکن تو نے مسئلہ بہت بڑا (اور اہم) بیان کیا ہے؛ «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرو“ اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرو“۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ دونوں برابر نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرنے“ سے مراد یہ ہے کہ آپ اکیلے کسی گردن کو آزاد کریں اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرانے“ سے مراد ہے اس کی قیمت میں مدد کرنا، اور دودھ والا جانور عطیہ میں دینا اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ اس نے کہا: اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ۔“ وہ کہنے لگا: اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“ اس نے کہا: جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ (ہر بات سے) روکے رکھو۔“