السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: فضل إعتاق النسمة وفك الرقبة باب: جان کو آزاد کرنے اور گردن کو (غلامی سے) چھڑانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21311
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ "، فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر طائف کے محلات کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکے، وہ گردن کے آزاد کرنے کے برابر ہیں“، میں نے اس دن چھ تیر پھینکے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر مارا اس کے لیے جنت میں درجہ ہوگا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا تو اللہ اس کے اعضاء کو اس کے اعضاء کے عوض جہنم سے بچا لے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کر دیا تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو اس کے تمام اعضاء کے عوض آزاد کر دے گا“۔