السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا سُفْيَانُ ⦗٦٦٤⦘ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کے بعد دنیاوی گفتگو جائز نہیں ہے، البتہ نماز پڑھنے والا اور مسافر ضرورت کی باتیں کر سکتے ہیں۔“