السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ثنا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاعِبًا بَعْدَهَا إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشاء سے پہلے کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی عشاء کے بعد کبھی کھیلتے دیکھا، یا تو آپ ذکر کرتے رہتے اور ثواب پاتے یا پھر آرام فرماتے اور سکون کرتے۔