حدیث نمبر: 21223
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قِيلَ: قَدِ اسْتَوَيْتُمَا فِي الدَّعْوَى وَالْبَيِّنَةِ، وَلِلَّذِي هُوَ فِيِ يَدَيْهِ سَبَبٌ بِكَيْنُونَتِهِ فِي يَدِهِ هُوَ أَقْوَى مِنْ سَبَبِكَ، فَهُوَ لَهُ بفَضْلِ قُوَّةِ سَبَبِهِ، وَفِيهِ سُنَّةٌ بِمِثْلِ مَا قُلْنَا ".
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(اسے) کہا جائے گا: تم دونوں دعوے اور دلیل (گواہی) میں برابر ہو، اور جس کے قبضے میں وہ (چیز) ہے، اس کے پاس اس کے قبضے میں ہونے کی صورت میں ایک ایسا سبب موجود ہے جو تمہارے سبب سے زیادہ قوی ہے، لہٰذا وہ اس کے سبب کی زیادہ قوت کی بنا پر اسی کی ہو گی، اور اس بارے میں ہمارے قول کے مطابق سنت (بھی) موجود ہے۔“

فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِيُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا بِدَابَّةٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا دَابَّتُهُ نَتَجَهَا، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي هِيَ فِيُ يَدَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو لوگوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کر دیا، دونوں کے پاس گواہ تھے کہ وہ اس کی سواری ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے فیصلہ فرمایا جس کے قبضے میں تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21223
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»