السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في الغلام يشهد قبل أن يبلغ، والعبد قبل أن يعتق، والكافر قبل أن يسلم، ثم بلغ الصبي، وعتق العبد، وأسلم الكافر، وكانوا عدولا، فشهدوا بها باب: اس لڑکے کے بارے میں جو بالغ ہونے سے پہلے، اور وہ غلام جو آزاد ہونے سے پہلے، اور وہ کافر جو مسلمان ہونے سے پہلے کسی بات کا گواہ بنے، پھر وہ بچہ بالغ ہو گیا، غلام آزاد ہو گیا اور کافر مسلمان ہو گیا اور وہ عادل (ثقہ) تھے تو انہوں نے اس کی گواہی دی۔
حدیث نمبر: 21183
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قُبِلَتْ شَهَادَاتُهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کی گواہیاں قبول کی جائیں گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْعَبْدِ وَالذِّمِّي إِذَا شَهِدَا: رُدَّتْ شَهَادَتُهُمَا، ثُمَّ أعْتَقَ هَذَا، وَأَسْلَمَ هَذَا أَنَّهُمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمَا ". ⦗٤٢٣⦘.حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اور ذمی کی شہادت مردود ہے، لیکن غلام آزاد ہو جائے اور ذمی اسلام قبول کر لے تو شہادت جائز ہے۔