السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى ثنا عَوْفٌ ثنا أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ ⦗٦٦٢⦘ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي: حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، قَالَ: وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ.عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو منہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا: ہمیں بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ فرض نماز کس وقت میں ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز جسے تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد ادا فرماتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ اگر ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی چمک رہا ہوتا اور مغرب کا وقت مجھے یاد نہیں رہا اور آپ ﷺ عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند فرماتے تھے اور عشا سے پہلے سونے کو ناپسند سمجھتے اور عشا کے بعد بات چیت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب آپ ﷺ نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (اتنی روشنی ہو جاتی تھی کہ) ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیات فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔