السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حِزَامٍ، أَوْ حَرَامٍ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ، وَكَانَ دَمِيمًا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ: " أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟ "، فَالْتَفَتَ، فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا وَاللهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِنْ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ "، أَوْ قَالَ: " لَكِنْ عِنْدَ اللهِ أَنْتَ غَالٍ ". لَمْ يُثْبِتْهُ شَيْخُنَا، وَفِيهِ خِلَافٌ، فَقِيلَ: حِزَامٌ، وَقِيلَ: حَرَامٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْغَنِيِّ الْحَافِظُ: حَرَامٌ بِالرَّاءِ أَصَحُّ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ظاہر بن حزام یا حرام ایک دیہاتی آدمی تھا، نبی کریم ﷺ اس سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور یہ سیاہ رنگ کا آدمی تھا، ایک دن نبی کریم ﷺ آئے اور وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے پیچھے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا، اس کو نظر نہیں آ رہا تھا، وہ کہنے لگا: ”مجھے چھوڑو! کون ہے؟“ پھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی تو وہ پہچان گیا کہ نبی کریم ﷺ ہیں، پہچاننے کے بعد اس نے اپنی کمر نبی ﷺ کے سینے کے ساتھ لگا دی، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ وہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! تب تو آپ مجھ کو بہت سستا پائیں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن تو اللہ کے ہاں سستا نہیں ہے، بلکہ اللہ کے نزدیک تو قیمتی ہے۔“