السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المزاح لا ترد به الشهادة ما لم يخرج في المزاح إلى عضه النسب أو عضه بحد أو فاحشة باب: مذاق کی وجہ سے گواہی رد نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ مذاق میں نسب پر طعن کرنے، حد والی تہمت لگانے یا بے حیائی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 21170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيَّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي خِبَاءٍ مِنْ أَدَمٍ، فَجَلَسْتُ بِفِنَاءِ الْخِبَاءِ، فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ، وَقَالَ: " ادْخُلْ يَا عَوْفُ "، فَقُلْتُ: أَكُلِّي أَمْ بَعْضِي؟ قَالَ: " كُلُّكَ "، فَدَخَلْتُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، میں نے سلام کہا تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”اے عوف! داخل ہو جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: سارے کا سارا یا بعض؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، سارے کا سارا۔“ چنانچہ میں داخل ہو گیا۔