حدیث نمبر: 21139
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " رُدَّتْ شَهَادَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا "، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "، وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: " أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "، فَقَامَ ذَلِكَ، أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ "، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا ". وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ، وَيُهْرَاقَ دَمُكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی، بخل اور گناہ کا حکم دیا تو انہوں نے یہ کام کیے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سا اسلام افضل ہے؟“ امام شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں (کہ آپ ﷺ نے فرمایا): ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں (کہ آپ ﷺ نے فرمایا): ”مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔“ پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سی ہجرت افضل ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تیرا رب ناپسند کرے اس کو چھوڑ دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کی دو قسمیں ہیں: 1 شہری آدمی کا ہجرت کرنا، 2 دیہاتی کا ہجرت کرنا۔“
”دیہاتی دعوت کو قبول کرے گا جب اس کو بلایا جائے گا اور حکم کی تعمیل کرے گا جب اس کو حکم دیا جائے گا، اور شہری کی آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! افضل شہید کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں پھاڑ دی جائیں اور خون بہا دیا جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الطيالسي 2386»