السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة المغرب باب: مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2102
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُمَيْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو طَرِيفٍ أَنَّهُ كَانَ شَاهِدًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ لِأَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ: فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا رَمَى بِنَبْلِهِ أَبْصَرَ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " شَكَّ أَبُو جَعْفَرٍ الْحُلْوَانِيُّ فِي بَعْضِ أَلفَاظِهِ وَالْحَدِيثُ مَحْفُوظٌ عَنْ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ بِشْرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ وَصَلَاةُ الْبَصَرِ أَرَادَ بِهَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَإِنَّمَا سَمِّيَتْ صَلَاةَ الْبَصَرِ لِأَنَّهَا تُؤَدَّى قَبْلَ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ولید بن عبداللہ بن ابو سمیرہ سے روایت ہے کہ مجھے ابوطریف رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر تھے جب آپ ﷺ اہل طائف کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ہمیں مغرب کی نماز ایسے وقت میں پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی تیر پھینکتا تو تیروں کے گرنے کی جگہ بھی دیکھ لیتا تھا۔
(ب) «صَلَاةُ الْبَصَرِ» ”صلوۃ البصر“ سے انہوں نے نماز مغرب کو مراد لیا ہے اور اس کا نام «صَلَاةُ الْبَصَرِ» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ رات کی تاریکی سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔