السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل يغني فيتخذ الغناء صناعة يؤتى عليه، ويأتي له، ويكون منسوبا إليه، مشهورا به معروفا، أو المرأة باب: جو مرد گانا گائے اور اسے پیشہ بنا لے جس کے لیے اس کے پاس آیا جائے اور وہ اس کے لیے دوسروں کے پاس جائے، اور وہ اس کی طرف منسوب ہو کر اسی حوالے سے مشہور اور معروف ہو جائے، یا کوئی عورت ایسا کرے۔
حدیث نمبر: 21010
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَنَاتَ أَخِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خُفِضْنَ فَأَلِمْنَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا نَدْعُو لَهُنَّ مِنْ يُلَهِّيهِنَّ؟ قَالَتْ: " بَلَى، قَالَتْ: فَأُرْسِلَ إِلَى فُلَانٍ الْمُغَنِّي فَأَتَاهُمْ، فَمَرَّتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْبَيْتِ، فَرَأَتْهُ يَتَغَنَّى، وَيُحَرِّكُ رَأْسَهُ طَرَبًا، وَكَانَ ذَا شَعْرٍ كَثِيرٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أُفٍّ، شَيْطَانٌ أَخْرِجُوهُ، أَخْرِجُوهُ "، فَأَخْرَجُوهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی ام علقمہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجیوں کا ختنہ ہوا تو انہیں اس سے تکلیف ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: اے ام المومنین! کیا ہم ان کے لیے کسی کو نہ بلا لیں جو ان کا دل بہلائے؟ فرمانے لگیں: کیوں نہیں۔ چنانچہ فلاں گانے والے کو بلایا گیا تو وہ ان کے پاس آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر میں اس کے پاس سے گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور مستی میں سر ہلا رہا ہے، اور اس کے بال گھنے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اف! یہ شیطان ہے، اس کو نکال دو، نکال دو۔ تو انہوں نے اسے نکال دیا۔