❮
❯
حدیث نمبر: 21010
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَنَاتَ أَخِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خُفِضْنَ فَأَلِمْنَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا نَدْعُو لَهُنَّ مِنْ يُلَهِّيهِنَّ؟ قَالَتْ: " بَلَى، قَالَتْ: فَأُرْسِلَ إِلَى فُلَانٍ الْمُغَنِّي فَأَتَاهُمْ، فَمَرَّتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْبَيْتِ، فَرَأَتْهُ يَتَغَنَّى، وَيُحَرِّكُ رَأْسَهُ طَرَبًا، وَكَانَ ذَا شَعْرٍ كَثِيرٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أُفٍّ، شَيْطَانٌ أَخْرِجُوهُ، أَخْرِجُوهُ "، فَأَخْرَجُوهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی ام علقمہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجیوں کا ختنہ ہوا تو انہیں اس سے تکلیف ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: اے ام المومنین! کیا ہم ان کے لیے کسی کو نہ بلا لیں جو ان کا دل بہلائے؟ فرمانے لگیں: کیوں نہیں۔ چنانچہ فلاں گانے والے کو بلایا گیا تو وہ ان کے پاس آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر میں اس کے پاس سے گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور مستی میں سر ہلا رہا ہے، اور اس کے بال گھنے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اف! یہ شیطان ہے، اس کو نکال دو، نکال دو۔ تو انہوں نے اسے نکال دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21010
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»