السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية اللعب بالنرد أكثر من كراهية اللعب بالشيء من الملاهي لثبوت الخبر فيه وكثرته باب: چوسر (نرد) کھیلنے کی کراہت دیگر تمام لہو و لعب کی چیزوں سے زیادہ ہے کیونکہ اس بارے میں کثرت سے احادیث ثابت ہیں۔
حدیث نمبر: 20960
وَبِإِسْنَادِهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا كَانُوا سُكَّانًا فِيهَا، عِنْدَهُمْ نَرْدٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ: " لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ دَارِي "، وَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں خبر ملی کہ ان کے گھر میں رہائش پذیر ایک گھرانے کے پاس نرد ہے، تو انہوں نے ان کی طرف (پیغام) روانہ کیا کہ ”اگر تم نے اس کو نہ نکالا تو میں تمہیں اپنے گھر سے نکال دوں گی۔“ اور انہوں نے ان پر اس بات کا انکار کیا۔