السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية تأخير العصر باب: عصر کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ ثَلَاثَةَ فَرَاسِخَ وَأَنْ صَلِّ الْعَتَمَةَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ إِنَّ أَهَمَّ أَمَرِكُمْ عِنْدِي الصَّلَاةُ مَنْ حَفِظَهَا أَوْ حَافَظَ عَلَيْهَا حَفِظَ دِينَهُ وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضَيْعُ وَكَتَبَ أَنْ صَلُّوا الظُّهْرَ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ ذِرَاعًا إِلَى أَنْ يَكُونَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ وَالْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ، فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ، فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ، وَالصُّبْحُ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ ".ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو اور پیدل چلنے والا تین فرسخ کا سفر طے کر لے اور عشا کی نماز تہائی رات کو پڑھو۔ اگر مؤخر کرو تو آدھی رات تک مؤخر کر لینا لیکن غافلوں میں سے نہ ہونا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں مالک نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع کے واسطے سے حدیث بیان کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمہارے معاملات اور امور میں سے سب سے اہم فریضہ میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس پر محافظت کی تو اس نے اپنا دین بچا لیا اور جس نے اس کو ضائع کیا تو وہ اس کے علاوہ دوسرے امور کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر لکھا کہ ظہر کی نماز کو اس وقت ادا کرو جب سایہ ایک بازو سے ایک مثل تک ہو اور عصر کا وقت اس وقت ہے جب سورج بالکل سفید چمک رہا ہو (غروب آفتاب میں اتنا فاصلہ ہو کہ آدمی دو یا تین فرسخ طے کر لے) اور مغرب کا وقت جب سورج غروب ہو اور عشا کا وقت سفیدی غائب ہونے سے تہائی رات تک ہے، (یعنی ان اوقات میں نمازوں کو ادا کر لیا کرو) اور جو سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے، تین بار فرمایا اور صبح کی نماز ایسے وقت میں ادا کرو کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور جو سو جائے اس کی آنکھ نہ سونے پائے۔