السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية اللعب بالنرد أكثر من كراهية اللعب بالشيء من الملاهي لثبوت الخبر فيه وكثرته باب: چوسر (نرد) کھیلنے کی کراہت دیگر تمام لہو و لعب کی چیزوں سے زیادہ ہے کیونکہ اس بارے میں کثرت سے احادیث ثابت ہیں۔
حدیث نمبر: 20956
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي الْجُعَيْدُ، عَنْ مُوسَى، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَالْمَيْسِرَ، يُرِيدُ النَّرْدَ، فَإِنَّهَا قَدْ ذُكِرَتْ لِي أَنَّهَا فِي بُيُوتِ نَاسٍ مِنْكُمْ، فَمَنْ كَانَتْ فِي بَيْتِهِ فَلْيَحْرِقْهَا أَوْ فَلْيَكْسِرْهَا "، قَالَ: عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كَلَّمْتُكُمْ فِي هَذَا النَّرْدِ، وَلَمْ أَرَكُمْ أَخْرَجْتُمُوهَا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحِزَمِ الْحَطَبِ ثُمَّ أُرْسِلَ إِلَى بُيُوتِ الَّذِينَ هِيَ فِي بُيُوتِهِمْ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن صلت رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا، وہ فرما رہے تھے: اے لوگو! جوئے سے بچو، (نرد کا ارادہ تھا)۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ تمہارے لوگوں کے گھروں میں ہے، جس کے گھر میں ہو وہ اسے جلا دے یا توڑ ڈالے۔ دوسری مرتبہ پھر وہ منبر پر تھے، فرمانے لگے: اے لوگو! میں نے تمہارے ساتھ نرد کے متعلق بات کی تھی، لیکن تم نے اسے نکالا نہیں، لیکن اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ لکڑیاں جمع کروا کر ان کو گھروں سمیت جلا دوں۔