السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما ترد به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20909
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: شَهِدَ رَجُلٌ عِنْدَ أَبِي شَهَادَةً، فَرَدَّ شَهَادَتَهُ، فَأَتَاهُ بَعْدُ فَقَالَ: رَدَدْتَ شَهَادَتِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَتَنَاوَلُ أَوْ تَبْغَضُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَتَنَاوَلُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: " نَعَمْ، أَمَا إِنِّي أَزِيدُكَ حَبْسًا حَتَّى تُحْدِثَ تَوْبَةً ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سوار عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی میرے والد کے پاس آیا، انہوں نے اس کی شہادت رد کر دی۔ پھر دوبارہ آکر کہنے لگا: آپ نے میری شہادت رد کر دی؟ فرمایا: ہاں۔ کہنے لگا: کیوں؟ کہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے عداوت رکھتا ہے، وہ کہنے لگا: صرف عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ہے، فرمایا: میں تجھے قید میں بھی رکھوں گا، جب تک تو توبہ نہ کر لے۔