السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا تقبل شهادة خائن ولا خائنة ولا ذي غمر على أخيه ولا ظنين ولا خصم باب: کسی خائن مرد اور خائن عورت کی، اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے، اور تہمت زدہ شخص اور فریقِ مخالف کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20859
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ ذِي الظِّنَّةِ وَالْجِنَّةِ ". وَالْحِنَّةُ الْجِنَّةُ: الْجُنُونُ، وَالْحِنَةُ: الَّذِي يَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ. لَا أَدْرِي، هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ قَوْلِ مَنْ مِنْ هَؤُلَاءِ الرُّوَاةِ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلٍ فِي الْخَصِمِ وَالظَّنِينِ.حافظ ثناء اللہ
اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تہمت لگانے والے، مجنون اور ایک دوسرے کے خلاف عداوت رکھنے والے کی شہادت قبول نہ ہوگی۔“