السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا تقبل شهادة خائن ولا خائنة ولا ذي غمر على أخيه ولا ظنين ولا خصم باب: کسی خائن مرد اور خائن عورت کی، اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے، اور تہمت زدہ شخص اور فریقِ مخالف کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ "، وَلَمْ يَقُلْ: " يَعْنِي التَّابِعَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن راشد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اسی طرح ہی ذکر کیا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں: دوسرے کے بارے میں اس کی گواہی جائز ہے، خادم کے الفاظ نہیں بولے۔