السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من سمى المرأة قارورة، والفرس بحرا على طريق التشبيه، أو سمى الأعمى بصيرا على طريق التفاؤل باب: جس نے بطورِ تشبیہ عورت کو ”آبگینہ (شیشہ)“ اور گھوڑے کو ”سمندر“ کہا، یا بطورِ نیک فالی (امید) نابینا کو ”بصیر“ (دیکھنے والا) کہا۔
حدیث نمبر: 20852
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو يَحْيَى النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْحَمَّالُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: " اذْهَبُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ "، ⦗٣٣٨⦘ قَالَ سُفْيَانُ: وَهُمْ حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ مَحْجُوبَ الْبَصَرِ كَذَا أَتَى بِهِ مَوْصُولًا، وَالصَّحِيحُ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو تاکہ ہم بصیر کی زیارت کریں۔“ سفیان فرماتے ہیں کہ وہ ایک انصاری قبیلہ سے تھے اور آنکھوں سے اندھے تھے۔
اسی طرح انہوں نے اسے موصول بیان کیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ سفیان سے، وہ عمرو سے، وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے اور وہ نبی ﷺ سے مرسل روایت ہے۔