السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من وعد غيره شيئا، ومن نيته أن يفي به، ثم وفى به، أو لم يف به لعذر، ومن وعد ومن نيته أن لا يفي به باب: جس شخص نے کسی سے کسی چیز کا وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو، پھر اس نے اسے پورا کر دیا یا کسی عذر کے باعث پورا نہ کر سکا، اور جس نے وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا نہ کرنے کی تھی۔
حدیث نمبر: 20840
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، سَمِعَهُ يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّي وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَدْبَرْتُ خَارِجًا، فَنَادَتْنِي أُمِّي: يَا عَبْدَ اللهِ تَعَالَ، هَاكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا تُعْطِيهِ "؟ قَالَتْ: أُعْطِيهِ تَمْرًا، قَالَ: " أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور میں بچہ تھا، میں باہر نکل گیا۔ میری والدہ نے مجھے آواز دی: ”عبداللہ! یہاں آؤ۔“ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اسے کیا دینا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کھجور۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتیں تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔“