السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة العصر باب: عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي ⦗٦٥٠⦘ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ نَطْبُخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ مَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَيْعٌ الْكِلَابِيُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِيلَ فِيهِ: عَبْدُ اللهِ وَقِيلَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى خَطَائِهِ بِحَدِيثِ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعٍ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ ضِدَّ هَذَا.سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا اور اس کو دس حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا، پھر اس کو پکایا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے گوشت کھا لیا کرتے تھے۔
(ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ ”عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے“، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی متابعت نہیں کی گئی، اور انہوں نے اس کی غلطی پر ابو النجاشی کی رافع سے روایت کو دلیل بنایا ہے۔ امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور رافع وغیرہ سے صحیح روایت اس کے برعکس ہے۔