السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من وعد غيره شيئا، ومن نيته أن يفي به، ثم وفى به، أو لم يف به لعذر، ومن وعد ومن نيته أن لا يفي به باب: جس شخص نے کسی سے کسی چیز کا وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو، پھر اس نے اسے پورا کر دیا یا کسی عذر کے باعث پورا نہ کر سکا، اور جس نے وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا نہ کرنے کی تھی۔
حدیث نمبر: 20838
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی اپنے بھائی سے وعدہ کرتا ہے اور اسے پورا کرنے کی نیت رکھتا ہو لیکن وہ اسے پورا نہ کر سکا یا وقتِ مقرر پر نہ آ سکا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“