السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من وعد غيره شيئا، ومن نيته أن يفي به، ثم وفى به، أو لم يف به لعذر، ومن وعد ومن نيته أن لا يفي به باب: جس شخص نے کسی سے کسی چیز کا وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو، پھر اس نے اسے پورا کر دیا یا کسی عذر کے باعث پورا نہ کر سکا، اور جس نے وعدہ کیا اور اس کی نیت اسے پورا نہ کرنے کی تھی۔
حدیث نمبر: 20835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ، فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَسِيتُهُ يَوْمِي ذَاكَ، وَالْغَدَ، فَأَتَيْتُهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ وَهُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ لِي: " يَا فَتًى، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ، أَنَا هَهُنَا مِنْ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ ". هَكَذَا قَالَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی حمساء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے خرید و فروخت کی اور میں نے وعدہ کیا کہ آپ ﷺ اس جگہ پر رہیں، میں ابھی آتا ہوں۔ کہتے ہیں: میں دو دن مسلسل بھول گیا اور تیسرے دن آیا۔ آپ ﷺ اس جگہ موجود تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوان! تو نے میرے اوپر مشقت ڈالی، میں تین دن سے تیرا انتظار کر رہا تھا۔“