السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من يظن به الكذب، وله مخرج منه، لم يلزمه اسم كذاب باب: جس پر جھوٹ کا گمان ہو، مگر اس کے پاس اس سے نکلنے کی تاویل (یا عذر) موجود ہو تو اس پر جھوٹے کا نام چسپاں نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 20833
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ ⦗٣٣٤⦘ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا أَعُدُّهُ كَاذِبًا: الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ يَقُولُ الْقَوْلَ لَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ، وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ.حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ صرف تین موقعوں پر جھوٹ کی اجازت دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”میں اس کو جھوٹ شمار نہیں کرتا: 1 لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا جو صرف اصلاح کا ارادہ رکھتا ہے۔ 2 لڑائی کے موقع پر 3 عورت کا خاوند کے لیے یا خاوند کا اپنی بیوی کے لیے کچھ بیان کرنا۔“