السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كان منكشف الكذب مظهره غير مستتر به، لم تجز شهادته باب: جس کا جھوٹ ظاہر ہو چکا ہو، وہ اسے اعلانیہ بولتا ہو اور اس سے پردہ پوشی نہ کرتا ہو تو اس کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 20825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِتَضْحَكَ بِهِ النَّاسُ، وَيْلٌ لَهُ، وَيْلٌ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے۔ اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔“