السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة العصر باب: عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فِي قَعْرِ حُجْرَتِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ عَقِيبَ حَدِيثِ مَالِكٍ: وَهَذَا مِنْ أَبْيَنِ مَا رُوِيَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ لِأَنَّ حُجْرَةَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَتْ بِالْوَاسِعَةِ وَذَلِكَ أَقْرَبُ لَهَا مِنْ أَنْ يَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْهَا فِي أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے ہمیں مکمل حدیث ذکر کی۔ نیز فرمایا: سورج روشن ہوتا، یعنی میرے حجرے میں چمک رہا ہوتا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔