السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كان منكشف الكذب مظهره غير مستتر به، لم تجز شهادته باب: جس کا جھوٹ ظاہر ہو چکا ہو، وہ اسے اعلانیہ بولتا ہو اور اس سے پردہ پوشی نہ کرتا ہو تو اس کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 20818
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يَكْتُبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا "، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقٍ.حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ ”ہمیشہ انسان سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے تو اللہ کے ہاں سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے“ اور دوسری روایت میں ہے کہ ”انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ تلاش کرتا رہتا ہے اور اللہ کے ہاں جھوٹوں میں شمار کیا جاتا ہے“۔