السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامِغَانِيُّ بِبَيْهَقَ قَالَا: أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عِمْرَانَ الْغَزِّيُّ بِغَزَّةَ سَنَةَ ثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بِشْرٍ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ، فَقَالَ إِيَاسٌ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قُرَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْحَيَاءَ الْعَفَافُ، وَالْعِيَّ عِيُّ اللِّسَانِ، لَا عِيُّ الْقَلْبِ، وَالْعَمَلُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَيَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا ". قَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَمْلَيْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ كَتَبَهَا بِخَطِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَإِنَّهُ لَفِي كُمِّهِ، مَا وَضَعَهَا إِعْجَابًا بِهَا.ایاس بن معاویہ بن قرہ مزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھے، ان کے ہاں حیا کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”حیا دین کا حصہ ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ مکمل حیا ہے۔“ ایاس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے میرے دادا قرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ کے سامنے حیا کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! حیا کا مطلب ہے پاک دامن رہنا اور زبان سے تھک جانا، دل سے نہیں اور عمل ایمان کا حصہ ہے اور یہ آخرت میں اضافے کا باعث ہے اور دنیا میں کمی کا باعث ہے، یہ دنیا کے مقابلے میں آخرت میں اضافے کا سبب زیادہ ہوتی ہے۔“
ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ایک خط پر لکھوں، پھر میں نے ان کو یہ لکھ کر دیا، پھر انہوں نے اسے اپنے خط میں لکھ لیا، پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی، وہ (تحریر) آپ کی آستین میں تھی اور آپ کو بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔