السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20800
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَاصُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرِارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ، أَوَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِهِمْ؟ أَحَاسِنُهُمْ أَخْلَاقًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے مرفوع حدیث نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر فرمایا: ”جو باچھیں پھیلا کر کلام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ کیا میں تمہیں بہترین کی خبر نہ دوں؟“ پھر فرمایا: ”وہ ہیں جو بہترین اخلاق کے مالک ہیں۔“