السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20796
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ⦗٣٢٦⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عَلَى جَمَلٍ، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اس کو مار رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! نرمی کو لازم پکڑو۔ جس کے اندر نرمی ہو وہ چیز خوبصورت بن جاتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے وہ معیوب بن جاتی ہے۔“