السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20792
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ وَيُسَائِلُهَا عَنِ الشَّيْءِ، قَالَ: فَقَامَ لَيْلَةً، فَدَعَا خَادِمَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ، فَلَعَنَهَا، فَقَالَتْ: لَا تَلْعَنْ، فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان، ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے پاس روانہ کرتے تاکہ وہ ان کے پاس رات گزاریں اور سوال کریں۔ وہ کہتے ہیں: وہ ایک رات کھڑے ہوئے تو خادم کو بلایا، اس نے دیر کر دی تو اس پر لعنت کی۔ وہ کہنے لگیں: لعنت مت کرو؛ کیونکہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا: ”لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہ اور سفارشی نہ بن سکیں گے۔“