السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20790
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو يَحْيَى الْمُلَائِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَافَحَ أَوْ صَافَحَهُ الرَّجُلُ لَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ، فَإِنِ اسْتَقْبَلَهُ بِوَجْهِهِ لَا يَصْرِفُهُ عَنْهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْصَرِفُ، وَلَمْ يَرُدَّ مُقَدِّمًا رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سے مصافحہ کرتے یا کوئی آدمی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو اپنا ہاتھ نہ چھڑواتے یہاں تک کہ وہ آدمی اپنا ہاتھ کھینچ لیتا، جب چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتے تو اپنا چہرہ نہ پھیرتے یہاں تک کہ وہ آدمی اپنا چہرہ پھیر لیتا اور آپ ﷺ مجلس میں پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھتے تھے۔