السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ مِنْهَا قَلْبُهُ، فَإِنْ عَادَ رَانَتْ حَتَّى يُغْلَقَ بِهَا قَلْبُهُ "، فَذَاكَ الَّذِي ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [المطففين: ١٤] ". ⦗٣١٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: " وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا جَانَسَهَا فِي التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَنْ أَصَرَّ عَلَى الذُّنُوبِ غَيْرَ مُسْتَغْفِرٍ مِنْهَا، وَلَا مُحَدِّثٍ نَفْسَهُ بِتَرْكِهَا ".حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور گناہ چھوڑ دے اور استغفار کر لے تو نکتہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔“ اس کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”ہرگز نہیں بلکہ ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہو گئے۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔