السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرَ حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ سَكَتَ، فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حَزِينًا لِيَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ⦗٣١٦⦘ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَأْتِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّهَا لَتَصْفُقُ "، ثُمَّ تَلَا: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ} [النساء: ٣١]. فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ وَمَا جَانَسَهَا مِنَ التَّغْلِيظِ فِي الْكَبَائِرِ وَالتَّكْفِيرِ عَنِ الصَّغَائِرِ مَا يُؤَكِّدُ قَوْلَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِرَدِّ شَهَادَةِ مَنِ ارْتَكَبَ كَبِيرَةً دُونَ مَنِ ارْتَكَبَ صَغِيرَةً، وَمِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الصَّغَائِرَ إِذَا كَثُرَتْ بَلَغَتْ بِصَاحِبِهَا مَبْلَغَ مُرْتَكِبِ الْكَبِيرَةِ فِي رَدِّ الشَّهَادَةِ وَغَيْرِهِ مَا:.سیدنا ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ منبر پر بیٹھے تھے، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ تین مرتبہ فرمایا، پھر خاموش ہو گئے تو نبی ﷺ کی دائیں جانب والے بوجہ غم کے رونے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [سورة النساء: 31] ”اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہاری غلطیاں مٹا دیں گے۔“
(ان اخبار میں) ان احادیث میں کبیرہ گناہوں کی سختی بیان ہوتی ہے اور صغیرہ گناہوں کا کفارہ۔ بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کی شہادت قبول نہیں کرتے جبکہ مرتکبِ صغیرہ کی شہادت قبول ہے۔
ان احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب صغیرہ گناہ کی کثرت ہو جائے تو یہ کبیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔