السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20757
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَأَبُو بَكْرٍ الطَّيَالِسِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي: ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا إِلَّا كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً، وَهَذَا الدَّهْرَ كُلَّهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عمرو بن سعید بن عاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کر کے فرض نماز میں حاضر ہو، پھر رکوع و سجود بھی اچھی طرح ادا کرے، اگر وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو صغیرہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحیح۔ متفق علیہ]