حدیث نمبر: 20752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ الْمُصَلُّونَ، أَلَا وَإِنَّهُ مَنْ يُتِمُّ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ⦗٣١٤⦘ يَرَاهَا لِلَّهِ عَلَيْهِ حَقًّا، وَيُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: " الْكَبَائِرُ تِسْعٌ، أَعْظَمُهُنَّ إِشْرَاكٌ بِاللهِ، وَقَتْلُ نَفْسِ مُؤْمِنٍ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالسِّحْرُ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، مَنْ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْهُنَّ كَانَ مَعِي فِي جَنَّةٍ مَصَارِيعُهَا مِنْ ذَهَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عبید بن عمیر رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ تھا تو میں نے آپ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نمازی اللہ کے دوست ہیں۔ خبردار! جو فرض نماز کو پورا کرتا ہے وہ اللہ کے ذمے اپنا حق خیال کرتا ہے، فرضی زکوٰۃ ادا کرتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے“ تو ایک آدمی نے سوال کر دیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ فرمایا: ”کبیرہ گناہ نو ہیں: 1 سب سے بڑا گناہ شرک ہے، 2 قتل کرنا، 3 سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاک دامن کو تہمت لگانا، لڑائی سے بھاگ جانا، والدین کی نافرمانی کرنا، جادو، بیت اللہ کی حرمت کو جائز قرار دینا۔ جو اللہ سے ملے اور ان سے بری ہوا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا، اس کا بچھونا سونے کا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20752
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»