السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20746
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {إِلَّا اللَّمَمَ} [النجم: ٣٢]، قَالَ: " الَّذِي يُلِمُّ بِالذَّنْبِ ثُمَّ يَدَعُهُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ الشَّاعِرِ:.حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس آیت ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [سورة النجم: 32] کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ آدمی جو گناہ میں ملوث رہتا ہے پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے، کیا آپ نے شاعر کا قول نہیں سنا؟ ”گر تو ان کو تمام گناہ معاف کردے تو معاف فرمادے، تیرا کون سا بندہ گناہگار نہیں ہے۔“