السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : النكول، ورد اليمين باب: قسم سے انکار کرنے اور مدعی پر قسم لوٹانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَى فَرَسًا، فَوَطِئَ عَلَى إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنَزَّى مِنْهَا فَمَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلَّذِينَ ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ: " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا؟ "، فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا مِنَ الْأَيْمَانِ، فَقَالَ لِلْآخَرِينَ: " احْلِفُوا أَنْتُمْ "، فَأَبَوْا ". زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ بِإِسْنَادِهِ: قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقَدْ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّينِ يَسْتَحِقُّونَ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا حَوَّلَهَا عَلَى الْيَهُودِ يُبَرَّءُونَ بِهَا، وَرَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْيَمِينَ عَلَى اللَّيْثِيِّينَ يُبَرَّءُونَ بِهَا، فَلَمَّا أَبَوْا حَوَّلَهَا عَلَى الْجُهَنِيِّينَ يَسْتَحِقُّونَ بِهَا، ⦗٣١٠⦘ فَكُلُّ هَذَا تَحْوِيلُ يَمِينٍ مِنْ مَوْضِعٍ قَدْ رُتِّبَتْ فِيهِ، إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي يُخَالِفُهُ، فَبِهَذَا وَمَا أَدْرَكْنَا عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا يَحْكُونَ عَنْ مُفْتِيهِمْ وَحُكَّامِهِمْ قَدِيمًا وَحَدِيثًا قُلْنَا فِي رَدِّ الْيَمِينِ.سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ بنو سعد کے ایک آدمی نے گھوڑا دوڑایا۔ اس نے جہینہ کے ایک آدمی کی انگلی روند دی۔ اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم قسم دو کہ وہ اس کی وجہ سے ہلاک نہیں ہوا؟ انہوں نے انکار کر دیا اور قسم دینے میں حرج محسوس کیا۔ انہوں نے دوسروں سے کہا تو انہوں نے بھی قسم کے اندر حرج محسوس کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے انصاری پر قسم ڈال دی کیونکہ وہ اس کے مستحق تھے۔ جب انہوں نے قسم قبول نہ کی تو تب نبی ﷺ نے یہود کی طرف قسم کو لوٹا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بنو لیث پر قسم ڈال دی، پھر ان کے انکار پر جہینیوں سے قسم لی۔ یہی ہمارے مفتیانِ کرام کا طریقہ ہے۔