السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كيف يحلف أهل الذمة والمستأمنون باب: اہل ذمہ اور پناہ گزین (مستأمنین) کس طرح قسم اٹھائیں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَهُودَ: " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ أَخِي مُوسَى وَصَاحِبِهِ، بَعَثَهُ اللهُ بِمَا بَعَثَهُ بِهِ، إِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَمَا أَنْزَلَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ طُورِ سَيْنَاءَ، وَفَلَقَ لَكُمُ الْبَحْرَ، وَأَنْجَاكُمْ، وَأَهْلَكَ عَدُوَّكُمْ، وَأَطْعَمَكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، هَلْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ أَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ وَإِلَى النَّاسِ كَافَّةً؟ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَسْلِمُوا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَكُمْ فَلَا تَبَاعَةَ عَلَيْكُمْ ".عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہود کو خط لکھا: ”اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے، جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی اور ساتھی ہیں، جنہیں اللہ نے اس چیز کے ساتھ مبعوث کیا جس کے ساتھ مبعوث کیا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اور اس کی جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر طورِ سیناء کے دن نازل کیا، اور جس نے تمہارے لیے سمندر پھاڑا، تمہیں نجات دی اور تمہارے دشمن کو ہلاک کیا اور تمہیں من و سلوٰی کھلایا، تمہارے اوپر بادلوں کا سایہ کیا۔ کیا تم اپنی کتاب میں پاتے ہو کہ میں تمہاری طرف اور تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں؟ اگر اس طرح ہے تو اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو۔ اور اگر تمہارے پاس یہ موجود نہ ہو تو تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔“