السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : التشديد في اليمين الفاجرة، وما يستحب للإمام من الوعظ فيها باب: جھوٹی قسم کے معاملے میں سختی (وعید) اور اس سلسلے میں امام کے لیے فریقین کو نصیحت کرنے کے استحباب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ ثُمَّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ خَرِيزًا فِي بَيْتٍ، وَفِي الْحُجْرَةِ حُدَّاثٌ، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَيَدُهَا تَشْخَبُ دَمًا فَقَالَتْ: أَصَابَتْ يَدِي هَذِهِ، وَأَنْكَرْتِ الْأُخْرَى ذَلِكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ ⦗٣٠٢⦘ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ أُنَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ "، فَادْعُهَا وَاقْرَأْ عَلَيْهَا: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: ٧٧]، قَالَ: فَاعْتَرَفَتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَّرَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُخْتَصَرًا عَنْ نَافِعٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ بِطُولِهِ.ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دو عورتوں کے بارے میں لکھا جو ایک گھر میں چمڑے کو سونت رہی تھیں اور حجرہ میں نو عمر بچیاں تھیں۔ ان میں سے ایک نکلی، اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے کہا: ”اس نے مجھے مارا ہے۔“ دوسری نے انکار کر دیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔ ”اگر لوگوں کو ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے تو لوگ خونوں کے دعوے شروع کر دیں، ان کو بلا کر یہ آیت تلاوت کریں:“ ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے ذریعے خریدتے ہیں، یہی لوگ ہیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اللہ قیامت کے دن ان سے کلام بھی نہ کرے گا اور نظرِ رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں اور آخرت کے دن ان کے لیے دردناک عذاب بھی ہے۔“