السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لا يبلغ بتأخيرها آخر وقتها باب: اس دلیل کا بیان کہ ظہر کی نماز مؤخر کرنے سے اسے آخری وقت تک نہیں پہنچایا جائے گا
حدیث نمبر: 2071
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بِإِسْفَرَائِينَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرَ أَوْ مَا بَقِيَ " وَفِي هَذَا إِنْ صَحَّ كَالدِّلَالَةِ عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فِي وَقْتِ صَلَاتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ خَبَرَ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ أَخَّرَهَا فِي الْحَرِّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُبْلَغْ بِتَأْخِيرِهَا آخِرَ وَقْتِهَا فَكَانُوا يَجِدُونَ مَعَ التَّأْخِيرِ حَرَّ الرِّمَالِ وَالْبَطْحَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سردیوں میں نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے کہ ہمیں یہ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گزر چکا ہے یا ابھی باقی ہے (دن کا جو حصہ گزر چکا ہے وہ زیادہ ہے یا جو باقی رہ گیا)۔
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی نماز میں موسم سرما اور موسم گرما کے لحاظ سے فرق تھا۔ حضرت ابوبکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ کی روایت اس پر محمول ہوگی کہ نماز ظہر کا گرمی میں مؤخر کرنا اس کے آخری وقت کو نہ پہنچے، نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کو مؤخر کرنے کے باوجود ٹیلوں اور وادیوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ واللہ اعلم!