السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : التشديد في اليمين الفاجرة، وما يستحب للإمام من الوعظ فيها باب: جھوٹی قسم کے معاملے میں سختی (وعید) اور اس سلسلے میں امام کے لیے فریقین کو نصیحت کرنے کے استحباب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضِي، كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي، وَفِي يَدِي أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ فِي قَوْلِهِ: " فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ "، وَقَوْلِهِ: قَالَ: " لَمَّا أَدْبَرَ " كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْأَيْمَانَ كَانَتْ تُنْقَلُ بِالْمَدِينَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ وَاللهُ أَعْلَمُ.علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک حضرموت اور ایک کِندہ کا آدمی آیا۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میرے باپ کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ کِندی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میری زمین ہے، میں کھیتی باڑی کرتا ہوں، کسی کا اس میں کوئی حق نہیں۔ نبی ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے ذمہ اس کی قسم ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فاجر آدمی ہے، یہ قسم کی پروا نہیں کرے گا، یہ تو کسی چیز سے پرہیز نہ کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے صرف یہی ہے۔“ وہ قسم کے لیے چلا۔ نبی ﷺ نے فرمایا جب وہ مڑا: ”اگر اس نے ظلم کے ذریعے مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی تو جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے اعراض کرنے والا ہے۔“