السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : تأكيد اليمين بالزمان، والحلف على المصحف باب: کسی (مقدس) وقت کے ذریعے قسم کو مؤکد (پختہ) کرنے اور مصحف (قرآن) پر قسم اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُؤَمَّلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الطَّائِفِ فِي جَارِيَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، وَلَا شَاهِدَ عَلَيْهِمَا، فَكَتَبَ إِلِيَّ: أَنِ احْبِسْهُمَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ اقْرَأْ عَلَيْهِمَا: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧]، فَفَعَلْتُ؛ فَاعْتَرَفَتْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دو بچیوں کے بارے میں لکھا کہ ایک نے دوسری کو مارا تھا لیکن گواہ بھی موجود نہ تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ عصر کے بعد ان کو روکو، پھر ان پر اس آیت کی تلاوت کرو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت خریدتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے ایسا کیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔