❮
❯
حدیث نمبر: 20695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " قُتِلَ رَجُلٌ، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحِجْرَ مِنَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ رَجُلًا، فَأَقْسَمُوا: مَا قَتَلْنَا، وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا ". وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، مِرَارًا، فَأَتَى ⦗٢٩٧⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ: " مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟ ". وَهُمَا مُرْسَلَانِ أَحَدُهُمَا يُؤَكِّدُ صَاحِبَهُ فِيمَا اجْتَمَعَا فِيهِ مِنْ نَقْلِ الْيَمِينِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ..
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قتل کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدعی علیہم میں سے پچاس آدمیوں کو حجر (حطیم) میں لے گئے، انہوں نے قسمیں کھائیں کہ نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی عورت سے کہا: جہاں چاہے تو جا اور اسے کئی مرتبہ کہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان قسم لی: بتا تیرا کیا ارادہ تھا؟
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، اور قسم کو مسجد حرام کی طرف منتقل کرنے میں دونوں ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20695
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»