السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : القضاء باليمين مع الشاهد باب: ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ صادر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزَّبِيبَ يَقُولُ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرَكِيَّةٍ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ، فَاسْتَاقُوهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبْتُ، فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ ⦗٢٨٩⦘ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللهِ، وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرٍ قَالَ لِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَنْ بَيِّنَتُكَ "؟ قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ، سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ، فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللهِ: لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ، لَوْلَا أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ الْعَمَلِ مَا رَزَئْنَاكُمْ عِقَالًا " قَالَ الزَّبِيبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: " احْبِسْهُ "، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ فَقَالَ: " مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ "؟ فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِيَّ، فَقَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: " رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا "، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِيَّ، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: " اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ "، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ ". قَوْلُهُ: خَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، يُرِيدُ: قَطَعْنَا أَطْرَافَ آذَانِهَا، كَانَ ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ عَلَامَةً بَيْنَ مَنْ أَسْلَمَ وَبَيْنَ مَنْ لَمْ يُسْلِمْ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، قَالَ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ اسْتِعْمَالُ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِي غَيْرِ الْأَمْوَالِ، إِلَّا أَنَّ إِسْنَادَهُ لَيْسَ بِذَاكَ، قَالَ: وَيُحْتَمَلُ أَيْضًا أَنْ يَكُونَ الْيَمِينُ قُصِدَ بِهَا هَهُنَا الْمَالُ، لِأَنَّ الْإِسْلَامَ يَحْقِنُ الْمَالَ كَمَا يَحْقِنُ الدَّمَ ".عمار بن شعیب بن عبداللہ بن زبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے دادا زبیب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو عنبر کی طرف ایک لشکر روانہ کیا، انہوں نے طائف کے ایک کونے سے ایک قافلہ پکڑ لیا اور وہ اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ میں سوار ہو کر ان سے پہلے نبی ﷺ تک پہنچ گیا اور آپ کو سلام کیا۔ ہمارے پاس آپ کا لشکر آیا، انہوں نے ہمیں پکڑ لیا حالانکہ اس سے پہلے ہم مسلمان ہو چکے تھے اور اپنے چوپاؤں کے کان بھی کاٹے تھے۔ جب بنو عنبر آئے تو نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے کہ تم ان دنوں سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری دلیل کیا ہے؟“ میں نے کہا: ایک سمرہ جو بنو عنبر کا آدمی ہے اور دوسرے آدمی کا نام لیا۔ دوسرے آدمی نے گواہی دے دی، لیکن سمرہ نے گواہی سے انکار کر دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس نے گواہی سے انکار کر دیا، اب تم گواہ کے ساتھ ایک قسم اٹھاؤ۔“ میں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ ﷺ نے مجھ سے قسم کا مطالبہ کیا۔ میں نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ ہم فلاں فلاں دن مسلمان ہو گئے تھے اور اپنے جانوروں کے کان بھی کاٹے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا آدھا مال تقسیم کر دو اور ان کے بچوں کو کچھ نہ کہنا، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ برے اعمال کو پسند نہیں فرماتے تو تمہارے اونٹ واپس نہ کیے جاتے۔“ زبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے بلایا اور کہا: یہ وہ آدمی ہے جس نے جانوروں کو پکڑا تھا۔ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو روک لو۔“ میں نے پکارنا شروع کر دیا اور میں ان کے ساتھ اس جگہ کھڑا ہو گیا، پھر میری طرف نبی ﷺ نے کھڑے ہونے کی حالت میں دیکھا اور فرمایا: ”تم قیدی کے ساتھ کیا ارادہ رکھتے ہو؟“ میں نے اس کو اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر اس آدمی سے کہا: ”اس کی ماں کے جو جانور تم نے لیے ہیں، وہ واپس کر دو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! وہ تو میرے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے اس آدمی کی تلوار لے کر اس کو دے دی اور فرمایا: ”جاؤ، اس کو کچھ صاع غلہ دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس نے جو کے چند صاع دیے۔
«خَضْرَمْنَا» ۔۔۔ الخ: مسلم اور کافر کے مال کے درمیان فرق کرنے کے لیے یہ کیا۔