السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تأخير الظهر في شدة الحر باب: شدید گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے (تاخیر سے پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2064
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ثنا عَبْدُ اللهِ ثنا يُونُسُ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: " كَانَ بِلَالٌ لَا يَحْذِمُ الْأَذَانَ وَكَانَ رُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا " وَقَدْ مَضَى قَوْلُهُ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں سستی نہیں کرتے تھے (یعنی اول وقت ہی میں اذان دے دیتے تھے)۔ ہاں، اقامت کبھی کبھی دیر سے کہا کرتے تھے اور ایک قول پہلے بھی گزر چکا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔