السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تأخير الظهر في شدة الحر باب: شدید گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے (تاخیر سے پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2061
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا الْأَسْفَاطِيُّ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: إِنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدْ " وَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو الولید نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے اسے کہا: ”ٹھنڈا کرو (یعنی کچھ ٹھہر جاؤ)“۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ غندر نے بھی شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔